صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۷ - قیامت کے دن حشر کا بیان
حشر کی حدیث: قیامت کے دن لوگوں کا اٹھایا جانا
صحیح بخاری : ۳۴۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۴۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ يُؤْخَذُ بِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ، فَأَقُولُ : كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ { 117 } إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ { 118 } سورة المائدة آية 117-118 ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ ذُكِرَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَبِيصَةَ قَالَ هُمُ الْمُرْتَدُّونَ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَاتَلَهُمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(قیامت کے دن) تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ”جس طرح ہم نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے، یہ ہماری جانب سے وعدہ ہے اور بیشک ہم اسے کرنے والے ہیں۔ “پھر سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ پھر میرے اصحاب کو دائیں (جنت کی) طرف لے جایا جائے گا۔ لیکن کچھ کو بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ جب آپ ان سے جدا ہوئے تو اسی وقت انہوں نے ارتداد اختیار کر لیا تھا۔ میں اس وقت وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے کہا تھا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان کی نگرانی کرتا رہا لیکن جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان ہے اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آیت «العزيز الحكيم» تک۔محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ ابوعبداللہ سے روایت ہے اور ان سے قبیصہ نے بیان کیا کہ یہ وہ مرتدین ہیں جنہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کفر اختیار کیا تھا اور جن سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنگ کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں قیامت کے دن حشر کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جائیں گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے قرآن کی آیت پڑھی کہ جیسے پہلی بار پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ پھر کچھ لوگوں کو دائیں طرف اور کچھ کو بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ نبی صلى الله عليه وسلم اپنے اصحاب کے بارے میں فرمائیں گے، لیکن بتایا جائے گا کہ آپ کے بعد وہ پلٹ گئے تھے۔ اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم عیسیٰ علیہ السلام والی دعا کے الفاظ کہیں گے۔ یہ حدیث حشر، قیامت، جواب دہی اور دین پر قائم رہنے کی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
- حشر کا معاملہ قرآن کی آیت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
- دین پر قائم رہنا بہت اہم ہے، کیونکہ پلٹ جانے کا خطرہ بیان ہوا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ کے ساتھ اللہ کے علم اور نگرانی کا ذکر فرمایا۔
