صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۹ - عیسیٰ علیہ السلام اور امت کا امام
عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا
صحیح بخاری : ۳۴۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۴۹
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے (تم نماز پڑھ رہے ہو گے) اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔“ اس روایت کی متابعت عقیل اور اوزاعی نے کی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک مختصر مگر بہت معنی خیز بات فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔ حدیث میں اتنی ہی بات آئی ہے، اس لیے اس سے باہر کی تفصیلات یہاں شامل نہیں کرنی چاہئیں۔ اصل پیغام یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت بھی امت کے اندر امامت کا نظام موجود ہو گا۔ اس حدیث کو عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، امام تم میں سے ہوگا حدیث، اور قیامت کی نشانیوں کے عنوان سے بہت تلاش کیا جاتا ہے۔ روایت قاری کو یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ دینی قیادت اور جماعت کے ساتھ وابستگی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- اس وقت مسلمانوں کا امام انہی میں سے ہوگا۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے غیر ضروری تفصیل نہیں نکالنی چاہیے۔
- امت کی جماعت اور امامت کا ذکر اہم انداز میں آیا ہے۔
