صحیح بخاری حدیث ۳۴۹۶ - دین کی سمجھ اور امارت سے بے رغبتی
الناس معادن: اچھے لوگ، دین کی سمجھ اور امارت
صحیح بخاری : ۳۴۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۹۶
وَالنَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّ النَّاسِ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ حَتَّى يَقَعَ فِيهِ " .
اور انسانوں کی مثال کان کی طرح ہے، جو لوگ جاہلیت کے دور میں شریف تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں جب کہ انہوں نے دین کی سمجھ بھی حاصل کی ہو تم دیکھو گے کہ بہترین اور لائق وہی ثابت ہوں گے جو خلافت و امارت کے عہدے کو بہت زیادہ ناپسند کرتے رہے ہوں، یہاں تک کہ وہ اس میں گرفتار ہو جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۹۶ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی لوگوں کو کانوں کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسانوں میں مختلف طرح کی صلاحیتیں اور مزاج ہوتے ہیں۔ جو لوگ جاہلیت کے دور میں شریف تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں، بشرطیکہ انہوں نے دین کی سمجھ حاصل کی ہو۔ اس شرط کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ متن صاف کہتا ہے: جب وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ پھر حدیث میں بتایا گیا کہ بہترین اور لائق وہی ثابت ہوں گے جو خلافت و امارت کے عہدے کو بہت ناپسند کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ اس میں ڈال دیے جائیں۔ اس سے امارت کی طلب کے بجائے ذمہ داری کے احساس کا پہلو سامنے آتا ہے۔ لوگ اس موضوع کو الناس معادن، امارت کی حدیث، اور دینی سمجھ کی فضیلت کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسانوں میں صلاحیتیں کانوں کی طرح مختلف ہوتی ہیں۔
- اچھی صفات اسلام میں دین کی سمجھ کے ساتھ نفع دیتی ہیں۔
- امارت کی خواہش نہ رکھنا متن میں اچھی صفت کے طور پر آیا ہے۔
- دینی سمجھ کردار کو صحیح رخ دیتی ہے۔
