صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۳ - کھانے کے آداب اور نبی صلى الله عليه وسلم کا خوبصورت طریقہ
کھانے کے آداب حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا
صحیح بخاری : ۳۵۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۶۳
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِلَّا تَرَكَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ کو مرغوب ہوتا تو کھاتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث کھانے کے آداب کے بارے میں نہایت آسان اور خوبصورت رہنمائی دیتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا۔ اگر کھانا پسند آتا تو آپ صلى الله عليه وسلم کھا لیتے، اور اگر دل نہ چاہتا تو خاموشی سے چھوڑ دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دسترخوان پر زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ ہر کھانا ہر شخص کو پسند نہیں آتا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانے یا بنانے والے کی دل آزاری کی جائے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا یہ عمل سادگی، شکر اور اچھے اخلاق کی صاف مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا پسند نہ آئے تو اس میں عیب نکالنے کے بجائے خاموشی سے چھوڑ دینا بہتر ہے۔
- دسترخوان پر اچھی زبان اور نرم رویہ رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کے قریب ہے۔
- جو چیز دل کو مرغوب ہو اسے کھا لینا، اور جو پسند نہ ہو اسے چھوڑ دینا کافی ہے۔
- کھانے پر بے جا تنقید سے بچنا گھر والوں اور میزبان کے احترام میں شامل ہے۔
