صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۰ - قرض کی ادائیگی اور کھجور میں برکت
قرض کی ادائیگی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا سے کھجور میں برکت
صحیح بخاری : ۳۵۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۸۰
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ وَلَا يَبْلُغُ مَا يُخْرِجُ سِنِينَ مَا عَلَيْهِ فَانْطَلِقْ مَعِي لِكَيْ لَا يُفْحِشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ ، فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ فَدَعَا ثَمَّ آخَرَ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : انْزِعُوهُ فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ مَا أَعْطَاهُمْ " .
جابر روایت:
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے عامر نے، کہا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ان کے والد (عبداللہ بن عمرو بن حرام، جنگ احد میں) شہید ہو گئے تھے۔ اور وہ مقروض تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ میرے والد اپنے اوپر قرض چھوڑ گئے۔ ادھر میرے پاس سوا اس پیداوار کے جو کھجوروں سے ہو گی اور کچھ نہیں ہے اور اس کی پیداوار سے تو برسوں میں قرض ادا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے آپ میرے ساتھ تشریف لے چلیے تاکہ قرض خواہ آپ کو دیکھ کر زیادہ منہ نہ پھاڑیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے (لیکن وہ نہیں مانے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے جو ڈھیر لگے ہوئے تھے پہلے ان میں سے ایک کے چاروں طرف چلے اور دعا کی۔ اسی طرح دوسرے ڈھیر کے بھی۔ پھر آپ اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ کھجوریں نکال کر انہیں دو۔ چنانچہ سارا قرض ادا ہو گیا اور جتنی کھجوریں قرض میں دی تھیں اتنی ہی بچ گئیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث قرض کی ادائیگی اور کھجوروں میں برکت کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد شہید ہوئے اور ان پر قرض تھا۔ جابر رضی اللہ عنہ کے پاس کھجوروں کی پیداوار کے سوا کچھ نہ تھا، اور وہ بھی قرض پورا کرنے کے لیے کافی نہیں لگتی تھی۔ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ قرض خواہ سختی نہ کریں۔ نبی صلى الله عليه وسلم کھجور کے ڈھیروں کے پاس تشریف لائے، ایک ڈھیر کے گرد چلے اور دعا کی، پھر دوسرے کے ساتھ بھی ایسا کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم ایک ڈھیر پر بیٹھے اور فرمایا کہ انہیں کھجوریں دو۔ قرض ادا ہو گیا اور اتنی ہی کھجوریں بچ بھی گئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کی ادائیگی کو سنجیدگی سے لینے کا پہلو اس حدیث میں موجود ہے۔
- جابر رضی اللہ عنہ نے مشکل میں نبی صلى الله عليه وسلم سے مدد کی درخواست کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کے بعد کھجوروں میں برکت ظاہر ہوئی۔
- قرض خواہوں کو ان کا حق ادا کیا گیا اور کھجوریں باقی بھی رہیں۔
