صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۲ - بارش کی دعا اور قبولیت
بارش کی دعا حدیث: جمعہ کے خطبے میں دعا استسقاء
صحیح بخاری : ۳۵۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۸۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَعَنْ يُونُسَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَحْطٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْكُرَاعُ هَلَكَتِ الشَّاءُ فَادْعُ اللَّهَ يَسْقِينَا فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا ، قَالَ أَنَسٌ : وَإِنَّ السَّمَاءَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَةِ فَهَاجَتْ رِيحٌ أَنْشَأَتْ سَحَابًا ثُمَّ اجْتَمَعَ ، ثُمَّ أَرْسَلَتِ السَّمَاءُ عَزَالِيَهَا فَخَرَجْنَا نَخُوضُ الْمَاءَ حَتَّى أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا فَلَمْ نَزَلْ نُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهُ فَتَبَسَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ إِلَى السَّحَابِ تَصَدَّعَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ كَأَنَّهُ إِكْلِيلٌ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سال قحط پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے لیے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! گھوڑے بھوک سے ہلاک ہو گئے اور بکریاں بھی ہلاک ہو گئیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر پانی برسائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی۔انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آسمان شیشے کی طرح (بالکل صاف) تھا۔ اتنے میں ہوا چلی۔ اس نے ابر (بادل) کو اٹھایا پھر ابر کے بہت سے ٹکڑے جمع ہو گئے اور آسمان نے گویا اپنے دہانے کھول دیئے۔ ہم جب مسجد سے نکلے تو گھر پہنچتے پہنچتے پانی میں ڈوب چکے تھے۔ بارش یوں ہی دوسرے جمعہ تک برابر ہوتی رہی۔دوسرے جمعہ کو وہی صاحب یا کوئی دوسرے پھر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مکانات گر گئے۔ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ بارش کو روک دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: اے اللہ! اب ہمارے چاروں طرف بارش برسا (جہاں اس کی ضرورت ہو) ہم پر نہ برسا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ اسی وقت ابر پھٹ کر مدینہ کے ارد گرد سر پیچ کی طرح ہو گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث مدینہ کے قحط اور بارش کی دعا کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں قحط پڑا۔ آپ صلى الله عليه وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ گھوڑے اور بکریاں ہلاک ہو گئیں، اللہ سے دعا کیجیے کہ بارش برسائے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی۔ اس وقت آسمان بالکل صاف تھا، پھر بادل بنے اور بارش شروع ہو گئی۔ بارش اگلے جمعہ تک جاری رہی۔ پھر عرض کیا گیا کہ گھر گر گئے، دعا فرمائیں کہ بارش رک جائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم مسکرائے اور دعا کی کہ ہمارے ارد گرد برسے، ہم پر نہ برسے۔ بادل مدینہ کے گرد چھٹ گئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قحط اور ضرورت کے وقت اللہ سے بارش کی دعا کی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جمعہ کے خطبے کے دوران دعا فرمائی۔
- جب بارش سے نقصان کا اندیشہ ہوا تو اسے رکوانے کی دعا کی گئی۔
- دعا کے الفاظ میں توازن تھا: ہمارے ارد گرد بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔
