صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۴ - ذکر سننے والا تنا رو پڑا

کھجور کے تنے کا رونا اور اللہ کے ذکر کی محبت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۸۴

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ ، فَقَالَتْ : امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا ، قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دُفِعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ، ثُمَّ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّنُ قَالَ : كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت (کے تنے) کے پاس کھڑے ہوتے یا (بیان کیا کہ) کھجور کے درخت کے پاس۔ پھر ایک انصاری عورت نے یا کسی صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا جی چاہے تو کر دو۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے لیے منبر تیار کر دیا۔جب جمعہ کا دن ہوا تو آپ اس منبر پر تشریف لے گئے۔ اس پر اس کھجور کے تنے سے بچے کی طرح رونے کی آواز آنے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ جس طرح بچوں کو چپ کرنے کے لیے لوریاں دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح اسے چپ کرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تنا اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اللہ کے اس ذکر کو سنا کرتا تھا جو اس کے قریب ہوتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت یا کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہوتے تھے۔ پھر ایک انصاری عورت یا کسی صحابی نے عرض کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے منبر بنا دیا جائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اجازت دی تو منبر تیار کیا گیا۔ جب جمعہ آیا اور آپ صلى الله عليه وسلم منبر پر تشریف لے گئے تو وہ کھجور کا تنا بچے کی طرح رونے لگا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم منبر سے اترے، اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسے اس طرح چپ کرایا جیسے بچے کو چپ کرایا جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق وہ تنا اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اپنے قریب اللہ کا ذکر سنا کرتا تھا۔ اس کا مرکزی پیغام ذکر الٰہی، محبت رسول صلى الله عليه وسلم اور نبی صلى الله عليه وسلم کا معجزہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کا ذکر سننا ایک بڑی نعمت ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے روتے ہوئے تنے کے ساتھ شفقت کا معاملہ فرمایا۔
  • جمعہ کے خطبہ اور منبر کا ذکر اس روایت میں صاف طور پر آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں