صحیح بخاری حدیث ۳۶۲۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کی خبر
نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کی خبر اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خوشی
صحیح بخاری : ۳۶۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۲۶
فَقَالَتْ : سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ " .
تو انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آہستہ سے گفتگو کی تھی تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ کی اس مرض میں وفات ہو جائے گی جس میں واقعی آپ کی وفات ہوئی۔ میں اس پر رو پڑی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے جو بات کہی اس میں آپ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں، میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی۔ میں اس پر ہنسی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے مرض وفات سے متعلق ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے آہستہ سے انہیں خبر دی کہ اسی مرض میں آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات ہو جائے گی۔ یہ سن کر وہ رو پڑیں، کیونکہ بیٹی کے لیے والد کی جدائی بہت سخت ہوتی ہے، اور یہاں تو وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی تھے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ آہستہ سے فرمایا کہ اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد مجھ سے آ ملو گی۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ہنس دیں۔ اس حدیث میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی محبت، نبی صلى الله عليه وسلم کی سچی خبر اور اہل بیت کی خاص نسبت نظر آتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ایمان والا دل جدائی پر غم بھی کرتا ہے اور اچھی خبر پر خوش بھی ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وفات کی خبر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے غم کا سبب بنی۔
- اہل بیت میں سب سے پہلے ملنے کی خبر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے خوشی کا باعث بنی۔
- محبت میں غم فطری ہے، مگر اللہ کے فیصلے پر صبر کرنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات کو صحابہ اور اہل بیت سچ مانتے تھے۔
