صحیح بخاری حدیث ۳۶۳ - وضو اور خفین پر مسح
خفین پر مسح اور سفر میں وضو کا مسنون عمل
صحیح بخاری : ۳۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : يَا مُغِيرَةُ خُذْ الْإِدَاوَةَ ، فَأَخَذْتُهَا ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى " .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں تھا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا۔ مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے۔ میں نے اسے اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی۔ اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ ہاتھ کھولنے کے لیے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین پر مسح کیا۔ پھر نماز پڑھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۳ کا خلاصہ
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں سفر کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی کی چھاگل اٹھانے کو فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے اور واپس آئے۔ اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آستین تنگ تھی، اس لیے آپ نے ہاتھ آستین کے اندر سے نکالنے کے بجائے جبہ کے نیچے سے باہر نکالا۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، خفین پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔ اس حدیث سے وضو کا طریقہ، خفین پر مسح، سفر میں آسانی، اور لباس کی تنگی میں عملی حل سمجھ آتا ہے۔ یہاں کوئی غیر ضروری تفصیل نہیں، بلکہ سیدھا عمل بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں بھی نماز کے لیے وضو کا اہتمام کیا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خفین پر مسح کیا۔
- لباس تنگ ہو تو مناسب طریقے سے کام لیا جا سکتا ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم خدمت اور ادب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔
