صحیح بخاری حدیث ۳۶۶۳ - جانوروں کے بولنے پر ایمان
ایمان بالغیب کی حدیث: بھیڑیا اور بیل کے بولنے کا واقعہ
صحیح بخاری : ۳۶۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۶۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَمَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ ، فَقَالَ : مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي ، وَبَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَكِنِّي خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ " , قَالَ : النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیا آ گیا اور ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہے نے اس سے بکری چھڑانی چاہی تو بھیڑیا بول پڑا۔ درندوں والے دن میں اس کی رکھوالی کرنے والا کون ہو گا جس دن میرے سوا اور کوئی چرواہا نہ ہو گا۔اسی طرح ایک شخص بیل کو اس پر سوار ہو کر لیے جا رہا تھا، بیل اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ میری پیدائش اس کے لیے نہیں ہوئی ہے۔ میں تو کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ وہ شخص بول پڑا۔ سبحان اللہ! (جانور اور انسانوں کی طرح باتیں کرے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان واقعات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بن خطاب بھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل سبق ایمان بالغیب ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دو عجیب واقعات بیان فرمائے: ایک چرواہے کی بکری بھیڑیا لے گیا، پھر بھیڑیا بولا؛ اور ایک شخص بیل پر سوار تھا، تو بیل نے کہا کہ میں اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ سننے والوں نے تعجب کیا اور سبحان اللہ کہا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ میں ان باتوں پر ایمان رکھتا ہوں، اور ابوبکر و عمر بھی۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کوئی خبر دیں تو مومن کا دل اسے سچ مانتا ہے، چاہے وہ عام عادت سے ہٹ کر ہو۔ یہ حدیث معجزات، ایمان بالغیب، اور صحابہ کے مضبوط یقین کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دی ہوئی خبر پر ایمان رکھنا مومن کا طریقہ ہے۔
- اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے جانوروں کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کا ایمان اس حدیث میں خاص طور پر بیان ہوا۔
- تعجب کی بات سن کر بھی مسلمان کا جواب ادب اور ایمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
