صحیح بخاری حدیث ۳۶۷۰ - حق بات کی وضاحت
حق اور ہدایت کی حدیث: وما محمد إلا رسول کی تلاوت
صحیح بخاری : ۳۶۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۷۰
ثُمَّ لَقَدْ بَصَّرَ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ الْهُدَى وَعَرَّفَهُمُ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَخَرَجُوا بِهِ يَتْلُونَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144 " .
اور بعد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو حق اور ہدایت کی بات تھی وہ لوگوں کو سمجھا دی اور ان کو بتلا دیا جو ان پر لازم تھا (یعنی اسلام پر قائم رہنا) اور وہ یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل» ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں «الشاكرين» تک۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۷۰ کا خلاصہ
اس مختصر روایت میں بتایا گیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حق اور ہدایت کی بات سمجھا دی۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ ان پر کیا لازم ہے، یعنی دین پر قائم رہنا اور حقیقت کو ماننا۔ وہ قرآن کی آیت پڑھتے ہوئے باہر آئے: محمد صلى الله عليه وسلم ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں، یہاں تک کہ آیت کے آخری الفاظ تک تلاوت کی۔ اس حدیث کا اصل مضمون یہ ہے کہ بڑے صدمے کے وقت قرآن انسان کو سہارا دیتا ہے، اور ایک سچے رہنما کا کام لوگوں کو جذبات میں بہنے کے بجائے حق بات کی طرف لانا ہے۔ اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دینی سمجھ، ثبات اور امت کے لیے خیر خواہی صاف نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حق بات کو قرآن کے ذریعے سمجھانا بہترین طریقہ ہے۔
- غم کے وقت دین پر قائم رہنا ضروری ہے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی۔
- امت کو مشکل وقت میں سنجیدہ اور صاف رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
