صحیح بخاری حدیث ۳۶۷۶ - عمر رضی اللہ عنہ کی قوت اور تدبیر

حضرت عمر کی فضیلت: مضبوط ڈول اور لوگوں کی سیرابی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۷۶

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا , فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ , فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " ، قَالَ وَهْبٌ : الْعَطَنُ مَبْرَكُ الْإِبِلِ ، يَقُولُ : حَتَّى رَوِيَتِ الْإِبِلُ فَأَنَاخَتْ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کنویں پر (خواب میں) کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر اور عمر بھی پہنچ گئے۔ پھر ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ڈول عمر نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہو گیا۔میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں، وہب نے بیان کیا کہ «العطن» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں، عرب لوگ بولتے ہیں، اونٹ سیراب ہوئے کہ (وہیں) بیٹھ گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۶۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خواب بیان فرمایا کہ آپ ایک کنویں پر پانی کھینچ رہے تھے۔ پھر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما آئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈول لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، مگر اس میں کچھ ضعف تھا، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ڈول لیا تو وہ ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایسا مضبوط اور باہمت شخص نہیں دیکھا جو اس طرح کام کر سکے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کی جگہیں بھر لیں۔ یہ حدیث حضرت عمر کی قوت، حسن تدبیر اور لوگوں کے فائدے کا ذکر کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے خواب میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر آیا۔
  • عمر رضی اللہ عنہ کی قوت اور کام کی مضبوطی نمایاں ہوئی۔
  • لوگوں کو فائدہ پہنچانا بڑی خوبی ہے۔
  • حدیث میں الفاظ کے مطابق بات کرنا علمی امانت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں