صحیح بخاری حدیث ۳۶۷۸ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع رسول
دفاع رسول کی حدیث: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جرأت
صحیح بخاری : ۳۶۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۷۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَفَعَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ : رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ " .
عروہ بن زبیر روایت:
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر کھینچی جس سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ پھنس گیا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بدبخت کو دفع کیا اور کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے مشرکین مکہ کی ایک سخت حرکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے اپنی چادر آپ صلى الله عليه وسلم کی گردن میں ڈال کر سختی سے کھینچا۔ اسی وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اسے نبی صلى الله عليه وسلم سے دور کیا۔ پھر انہوں نے کہا: کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں لے کر آیا ہے؟ اس حدیث میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جرأت، نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت، اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا واضح واقعہ ہے۔ متن میں یہی بات ہے، اس لیے تشریح بھی اسی واقعے کے گرد رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کا دفاع کیا۔
- حق بات کہنے والے پر ظلم کرنا مشرکین کی سخت حرکت تھی۔
- دین کے معاملے میں جرأت اور ثابت قدمی اہم ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نماز میں تھے، اس لیے واقعہ کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔
