صحیح بخاری حدیث ۳۶۸۲ - کنویں کے خواب میں عمر رضی اللہ عنہ کا کمال

حضرت عمر کی قیادت: کنویں، ڈول اور لوگوں کی سیرابی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۸۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ . قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : الْعَبْقَرِيُّ عِتَاقُ الزَّرَابِيِّ ، وَقَالَ يَحْيَى : الزَّرَابِيُّ الطَّنَافِسُ لَهَا خَمْلٌ رَقِيقٌ مَبْثُوثَةٌ كَثِيرَةٌ .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس پر ”لکڑی کا چرخ“ لگا ہوا ہے، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کر سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔ابن جبیر نے کہا کہ «عبقري» کا معنی عمدہ اور «زرابي» اور «عبقري» سردار کو بھی کہتے ہیں (حدیث میں «عبقري» سے یہی مراد ہے) یحییٰ بن زیاد فری نے کہا، «زرابي» ان بچھونوں کو کہتے ہیں جن کے حاشیے باریک، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۶۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خواب بیان فرمایا کہ آپ ایک کنویں سے ایک بڑا ڈول کھینچ رہے تھے، جس پر لکڑی کا چرخ لگا ہوا تھا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور ایک یا دو ڈول کھینچے، مگر کمزوری کے ساتھ، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بہت بڑا ڈول بن گیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی سے کام کر سکے۔ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو بھی پلا کر ٹھکانوں پر لے گئے۔ یہ حدیث عمر رضی اللہ عنہ کی قوت، خدمت اور کام کو انجام تک پہنچانے کی خوبی بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے خواب میں عمر رضی اللہ عنہ کی مضبوطی ظاہر ہوئی۔
  • لوگوں کو سیراب کرنا فائدہ پہنچانے کی علامت کے طور پر آیا۔
  • ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر دعا کے ساتھ آیا۔
  • بڑے کام کے لیے ہمت، طاقت اور تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں