صحیح بخاری حدیث ۳۶۸۵ - حضرت عمر کے اعمال اور دو ساتھیوں کی رفاقت

حضرت عمر کی فضیلت: میں، ابوبکر اور عمر ساتھ تھے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۸۵

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي ، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ ، وَقَالَ : مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ , وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ " .

ابن عباس روایت:

جب عمر رضی اللہ عنہ کو (شہادت کے بعد) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے (اللہ سے) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور (ان کی نعش کو مخاطب کر کے) کہا: آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے تو (پہلے سے) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ”میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۶۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کا ایک مؤثر واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب عمر رضی اللہ عنہ کو چارپائی پر رکھا گیا تو لوگ ان کے لیے دعا اور مغفرت طلب کر رہے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما وہاں موجود تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور فرمایا کہ آپ کے بعد مجھے کسی شخص کے عمل کی اتنی تمنا نہیں کہ اس جیسا عمل لے کر اللہ سے ملوں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو یہ فرماتے سنتے تھے: میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔ اس روایت میں حضرت عمر کی صحبت، ان کے عمل کی قدر، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ان کے خاص تعلق کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک لوگوں کے لیے دعا اور مغفرت طلب کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
  • حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعمال کی قدر کی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا بار بار ذکر ان کی خاص رفاقت بتاتا ہے۔
  • کسی صحابی کی فضیلت بیان کرتے وقت روایت کے الفاظ کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں