صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۱ - خیبر کا علم اور ایک شخص کی ہدایت

خیبر کا علم حضرت علی کو ملا: ایک شخص کی ہدایت سرخ اونٹوں سے بہتر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۰۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ ، قَالَ : فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا ، فَقَالَ : أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ؟ ، فَقَالُوا : يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ , فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا ، فَقَالَ : " انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ , فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ " .

سہل بن سعد روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی عَلم دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئیے عَلم کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات (جو سرکردہ تھے) حاضر ہوئے، سب کو امید تھی کہ عَلم انہیں ہی ملے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوا لو، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، اس سے انہیں ایسی شفاء حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھا ہی نہیں، چنانچہ آپ نے عَلم انہیں کو عنایت فرمایا۔علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں (یعنی مسلمان بن جائیں) آپ نے فرمایا: ابھی یوں ہی چلتے رہو، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں، اللہ کی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (کی دولت) سے بہتر ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں غزوہ خیبر کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔ صبح سب لوگ امید لے کر آئے کہ شاید علم انہیں ملے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا۔ بتایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور دعا فرمائی، تو وہ ایسے ٹھیک ہو گئے جیسے درد تھا ہی نہیں۔ پھر علم انہیں دیا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے لڑائی کے بارے میں پوچھا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اطمینان سے جاؤ، ان کے میدان میں پہنچ کر پہلے اسلام کی دعوت دو اور اللہ کے حقوق بتاؤ۔ پھر فرمایا کہ اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت اسلام لڑائی سے پہلے بیان کی گئی۔
  • ایک شخص کی ہدایت کو بڑی نعمت قرار دیا گیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی اور انہیں علم دیا۔
  • دینی کام میں جلد بازی کے بجائے اطمینان اور حکمت کا حکم دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں