صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۲ - انبیاء کی میراث صدقہ ہوتی ہے
لا نورث حدیث: انبیاء کا مال صدقہ ہوتا ہے
صحیح بخاری : ۳۷۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۱۲
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ " , وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَقَّهُمْ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي " .
ابوبکر روایت:
ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور یہ کہ آل محمد کے اخراجات اسی مال میں سے پورے کئے جائیں مگر انہیں یہ حق نہیں ہو گا کہ کھانے کے علاوہ اور کچھ تصرف کریں اور میں، اللہ کی قسم! آپ کے صدقے میں جو آپ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ان میں کوئی رد و بدل نہیں کروں گا بلکہ وہی نظام جاری رکھوں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا۔پھر علی رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم آپ کی فضیلت و مرتبہ کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا اور اپنے حق کا ذکر کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت والوں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنی قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع انبیاء کی میراث اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے صدقات کا نظام ہے۔ ابوبکرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کہا: ہماری میراث نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ آل محمد صلى الله عليه وسلم کے اخراجات اسی مال سے پورے ہوں گے، مگر کھانے سے زیادہ تصرف کا حق نہیں۔ ابوبکرؓ نے قسم کھا کر کہا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے صدقات کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے، بلکہ وہی نظام جاری رکھیں گے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں تھا۔ روایت میں علیؓ کا ابوبکرؓ کی فضیلت کا اقرار بھی ہے، اور ابوبکرؓ کا یہ کہنا بھی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے قرابت داروں سے صلہ رحمی کرنا انہیں اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے۔ لا نورث ما ترکنا صدقة حدیث کا پیغام یہ ہے کہ اس معاملے میں ابوبکرؓ نے ذاتی رائے نہیں بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان اور عمل کی پیروی کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوبکرؓ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے فرمان کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے صدقات کے نظام میں تبدیلی نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
- آل محمد صلى الله عليه وسلم کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کی محبت بیان ہوئی۔
- شرعی معاملے میں جذبات کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کی پیروی ضروری ہے۔
