صحیح بخاری حدیث ۳۷۲ - فجر کی نماز میں خواتین کا پردہ
فجر کی نماز میں خواتین اور چادر اوڑھنے کا ادب
صحیح بخاری : ۳۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْفَجْرَ فَيَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ مُتَلَفِّعَاتٍ فِي مُرُوطِهِنَّ ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کئی مسلمان عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے شریک نماز ہوتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی تھیں، اس وقت انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۲ کا خلاصہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تھے اور کئی مسلمان عورتیں بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوتی تھیں۔ وہ اپنی چادریں اوڑھے ہوئے ہوتیں، پھر نماز کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں۔ حدیث میں یہ بھی بیان ہوا کہ اس وقت انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ اس حدیث میں فجر کی نماز، خواتین کی نماز میں شرکت، چادر اوڑھنا، اور پردے کا عملی انداز سامنے آتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ خواتین نماز میں شریک ہوئیں، مگر پردے اور وقار کے ساتھ۔ اس لیے فجر کی نماز میں خواتین، عورتوں کا پردہ، اور چادر اوڑھ کر مسجد جانا جیسے موضوعات اس حدیث سے براہ راست جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان عورتیں فجر کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں۔
- وہ اپنی چادریں اوڑھ کر آتی اور واپس جاتی تھیں۔
- نماز کے بعد گھر واپسی میں پردے کا خیال رکھا گیا۔
- حدیث میں خواتین کی شرکت اور پردے دونوں کا ذکر ساتھ آیا ہے۔
