صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۲ - طلحہؓ اور سعدؓ کی ثابت قدمی

طلحہؓ اور سعدؓ کی شجاعت: نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ثابت قدمی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۲۲

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ , وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا " .

ابوعثمان روایت:

بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے (احد کی جنگ میں) آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع طلحہؓ اور سعدؓ کی شجاعت اور ثابت قدمی ہے۔ ابو عثمانؓ بیان کرتے ہیں کہ ان جنگوں میں سے بعض دنوں میں، جن میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خود شریک ہوئے، آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ طلحہؓ اور سعدؓ کے سوا کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ حدیث میں واقعے کی تفصیل زیادہ نہیں دی گئی، لیکن اتنا واضح ہے کہ ان دونوں صحابہ نے سخت موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رہنے کا اعزاز پایا۔ طلحہ سعد احد حدیث کے طور پر یہ روایت عام طور پر شجاعت اور وفاداری کے باب میں ذکر کی جاتی ہے۔ اس متن سے ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ باقی صحابہ کے بارے میں کوئی عمومی حکم ہے، کیونکہ روایت صرف ایک خاص موقع کی خبر دیتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ مشکل وقت میں ساتھ دینا، خطرے کے لمحے میں ثابت رہنا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کے لیے موجود رہنا بہت بڑی سعادت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طلحہؓ اور سعدؓ نے سخت موقع پر نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ثابت قدمی دکھائی۔
  • مشکل وقت میں ساتھ رہنا وفاداری کی بڑی نشانی ہے۔
  • حدیث ایک خاص موقع کی خبر دیتی ہے، اسے بلا وجہ عمومی نہیں بنانا چاہیے۔
  • صحابہ کی شجاعت عمل اور قربانی سے ظاہر ہوتی تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں