صحیح بخاری حدیث ۳۸۲ - نماز کے آگے لیٹنا
نماز کے آگے لیٹنے کی حدیث اور گھر میں نماز
صحیح بخاری : ۳۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ، قَالَتْ : وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ " .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ میں ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے، تو میرے پاؤں کو آہستہ سے دبا دیتے۔ میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور آپ جب کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا دیتی۔ ان دنوں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا گھر کے اندر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے آگے سو جاتی تھیں اور ان کے پاؤں آپ صلى الله عليه وسلم کے قبلہ کی طرف ہوتے تھے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کرتے تو آہستہ سے ان کے پاؤں کو دبا دیتے، وہ پاؤں سمیٹ لیتیں، اور جب آپ صلى الله عليه وسلم کھڑے ہوتے تو وہ پاؤں پھر پھیلا دیتیں۔ حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اس سے ہمیں گھر میں نماز، نماز کے دوران نرمی، اور دوسروں کو تکلیف دیے بغیر عبادت کرنے کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ حدیث میں جو بات آئی ہے، وہ گھر کے خاص حال اور موجود جگہ کے حساب سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز میں بھی نرمی اور آرام سے معاملہ فرماتے تھے۔
- گھر کے حالات کے مطابق نماز ادا کرنے کا واقعہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- دوسرے کو تکلیف دیے بغیر اشارے سے کام لینا ایک اچھا انداز ہے۔
- حدیث میں گھروں میں چراغ نہ ہونے کا حال بھی بیان ہوا ہے۔
