صحیح بخاری حدیث ۳۸۵ - گرمی میں سجدہ کی جگہ

سخت گرمی میں کپڑے پر سجدہ کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ أَحَدُنَا طَرَفَ الثَّوْبِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ فِي مَكَانِ السُّجُودِ " .

انس بن مالک روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ پھر سخت گرمی کی وجہ سے کوئی کوئی ہم میں سے اپنے کپڑے کا کنارہ سجدے کی جگہ رکھ لیتا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۸۵ کا خلاصہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ سخت گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کوئی اپنے کپڑے کا کنارہ سجدہ کی جگہ رکھ لیتا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع سجدہ کی جگہ اور گرمی میں نماز کی حالت ہے۔ روایت میں یہ بات نہیں کہی گئی کہ ہر وقت ایسا کرنا ضروری ہے، بلکہ خاص وجہ یعنی سخت گرمی کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کو کپڑے پر سجدہ، گرمی میں نماز، اور سجدہ کی جگہ کو گرمی سے بچانے کے موضوع میں سمجھا جاتا ہے۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نماز میں شریک رہتے تھے، مگر سخت گرمی میں سجدہ کی جگہ پر کپڑے کا کنارہ رکھ لیتے تھے تاکہ نماز ادا کر سکیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت گرمی میں بعض صحابہ کپڑے کا کنارہ سجدہ کی جگہ رکھ لیتے تھے۔
  • حدیث میں سجدہ کی جگہ کے گرم ہونے کی وجہ بیان ہوئی ہے۔
  • نماز نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جماعت میں ادا کی جا رہی تھی۔
  • عمل کو اسی خاص وجہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے جو روایت میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں