صحیح بخاری حدیث ۴۱۰ - چہرے کے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع
نماز کے آداب: سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکیں
صحیح بخاری : ۴۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھ کر اسے صاف کرنے اور پھر تھوکنے کے آداب بتانے کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے بلغم کو کھرچ دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو تھوکنا ہو تو وہ اپنے چہرے کے سامنے نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف تھوکے، بلکہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک لے۔ حدیث کی باتیں بہت سادہ ہیں، مگر ان میں نماز کے ماحول کا ادب صاف نظر آتا ہے۔ سامنے کی سمت عبادت میں خاص مقام رکھتی ہے، اور دائیں طرف سے بھی منع کیا گیا۔ اس لیے مسجد اور نماز گاہ میں صفائی، احتیاط اور احترام کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چہرے کے سامنے تھوکنا منع کیا گیا ہے۔
- دائیں طرف تھوکنے سے بھی روکا گیا ہے۔
- حدیث میں بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے کا ذکر ہے۔
- مسجد کی صفائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
