صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۳ - زبیرؓ نبی صلى الله عليه وسلم کے حواری
حضرت زبیرؓ: نبی صلى الله عليه وسلم کے حواری اور وفادار مددگار
صحیح بخاری : ۴۱۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " , فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّ , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
جابر روایت:
غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں غزوہ احزاب کا ایک خوبصورت واقعہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ پوچھا، پھر تیسری بار پوچھا، اور ہر بار زبیر رضی اللہ عنہ نے خود کو پیش کیا۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، اور میرے حواری زبیر ہیں۔ حدیث کا مرکزی پیغام وفاداری، ہمت اور خدمت کے لیے تیار رہنا ہے۔ زبیر حواری حدیث، ہر نبی کا حواری، اور غزوہ احزاب میں خبر لانے والا صحابی جیسے الفاظ اس روایت کے اصل موضوع کو بیان کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت زبیرؓ نے خطرے کے کام کے لیے بار بار خود کو پیش کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے زبیرؓ کو اپنا حواری فرمایا۔
- وفادار مددگار مشکل وقت میں ذمہ داری قبول کرتا ہے۔
