صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۵ - اللہ پر توکل اور معافی
تلوار والی حدیث: اللہ پر توکل اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نرمی
صحیح بخاری : ۴۱۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۳۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي , عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ , فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ , فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ , فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ , وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ , قَالَ جَابِرٌ : فَنِمْنَا نَوْمَةً , ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ , فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ , فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا , فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُ " , فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
جابر روایت:
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں غزوہ کے لیے گئے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی واپس ہوئے۔ قیلولہ کا وقت ایک وادی میں آیا ‘ جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اتر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم درختوں کے سائے کے لیے پوری وادی میں پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکا دی۔جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی تھوڑی دیر ہمیں سوئے ہوئے ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم جب خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار (مجھ ہی پر) کھینچ لی تھی ‘ میں اس وقت سویا ہوا تھا ‘ میری آنکھ کھلی تو میری ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا ‘ تمہیں میرے ہاتھ سے آج کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! اب دیکھو یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوئی سزا نہیں دی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ پر توکل اور نرمی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نجد کے غزوہ سے واپسی پر ایک وادی میں ٹھہرے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک درخت کے نیچے قیام کیا اور تلوار درخت پر لٹکا دی۔ ایک بدوی آیا، اس نے تلوار کھینچ لی اور پوچھا کہ آج تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا: اللہ۔ پھر وہ شخص بیٹھ گیا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔ اس روایت میں توکل علی اللہ، تلوار والی حدیث، من يمنعك مني، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی معافی جیسے الفاظ اہم ہیں۔ حدیث کا پیغام متن کے مطابق اللہ پر اعتماد اور بدوی کے ساتھ نرمی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل لمحے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اللہ پر اعتماد کا اظہار کیا۔
- بدوی کے ہاتھ میں تلوار تھی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم کا جواب صرف اللہ تھا۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے اس شخص کو سزا نہیں دی۔
