صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۷ - خیبر میں صبح کا انتظار
غزوہ خیبر کی حدیث: رات کو پہنچ کر صبح کا انتظار
صحیح بخاری : ۴۱۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۹۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى خَيْبَرَ لَيْلًا ، وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت موقع پر پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے بلکہ صبح ہو جاتی جب کرتے۔ چنانچہ صبح کے وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور کرنے لگے کہ محمد ‘ اللہ کی قسم! محمد لشکر لے کر آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا ‘ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ خیبر کے ایک خاص پہلو کو بیان کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو فوراً حملہ نہ کرتے، بلکہ صبح ہونے تک انتظار کرتے۔ صبح ہوئی تو یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے۔ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو لشکر کے ساتھ دیکھا تو پکار اٹھے کہ محمد، اللہ کی قسم محمد لشکر کے ساتھ آ گئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ یہ روایت جنگی نظم، وقت کے انتخاب اور نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رات کو پہنچ کر فوراً حملہ نہیں کیا، صبح کا انتظار کیا۔
- اہل خیبر نے لشکر دیکھ کر خوف کے ساتھ پکارا، جیسا کہ روایت میں آیا ہے۔
- جنگی معاملے میں بھی وقت اور نظم کو سامنے رکھا گیا۔
