صحیح بخاری حدیث ۴۲۲۹ - خیبر کے خمس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب
خمس خیبر کی حدیث: بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں
صحیح بخاری : ۴۲۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۲۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا : أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ ، وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ " ، قَالَ جُبَيْرٌ : وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا " .
جبیر بن مطعم روایت:
میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو (خمس میں سے) کچھ نہیں دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع خمس خیبر اور قرابت کا معاملہ ہے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو خیبر کے خمس میں سے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ قرابت میں ہم بھی ایک ہی درجے میں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو اس میں سے کچھ نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کو لوگ خمس خیبر، بنو ہاشم بنو مطلب، اور غنیمت کا پانچواں حصہ جیسے الفاظ سے تلاش کرتے ہیں۔ روایت میں اصل توجہ اسی فیصلے پر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک قرار دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر کے خمس کی تقسیم میں بنو مطلب کو حصہ دیا گیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک قرار دیا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوال لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے تھے۔
- مالی معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو اصل معیار سمجھا گیا۔
