صحیح بخاری حدیث ۴۲۳۴ - مال غنیمت میں خیانت کا انجام
مال غنیمت میں خیانت: خیبر کی عبرت آموز حدیث
صحیح بخاری : ۴۲۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۳۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً ، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ : مِدْعَمٌ أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا " ، فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ فَقَالَ : هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ " .
ابوہریرہ روایت:
جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر ان کے لگا۔لوگوں نے کہا مبارک ہو: شہادت! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مال غنیمت میں خیانت یعنی غلول ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر فتح ہوا تو سونا چاندی نہیں ملا، بلکہ جانور، سامان اور باغات ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف واپسی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدعم نامی غلام تھا۔ اسے ایک نامعلوم تیر لگا تو لوگوں نے کہا کہ شہادت مبارک ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، خیبر کے مال غنیمت سے تقسیم سے پہلے لی گئی چادر اس پر آگ بن رہی ہے۔ یہ سن کر ایک شخص ایک یا دو تسمے لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی آگ کا تسمہ ہے۔ یہ حدیث مال غنیمت میں خیانت، غلول کی حدیث، اور خیبر کی چادر والی حدیث کے نام سے تلاش ہوتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ مشترک مال میں چھوٹی چیز بھی بغیر حق کے نہیں لینی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال غنیمت سے تقسیم سے پہلے چیز لینا سخت معاملہ ہے۔
- لوگوں نے جسے شہادت کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل معاملہ واضح فرمایا۔
- چادر یا تسمے جیسی معمولی چیز بھی حق کے بغیر لینا درست نہیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ سن کر ایک شخص چیز واپس لے آیا۔
