صحیح بخاری حدیث ۴۲۵۲ - حدیبیہ سے عمرہ قضاء تک کا واقعہ
عمرہ قضاء کی حدیث: معاہدے کی پابندی اور تین دن کا قیام
صحیح بخاری : ۴۲۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۵۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ،عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَنَحَرَ هَدْيَهُ ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ ، وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا ، وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا ، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا ، أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ ، فَخَرَجَ " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادے سے نکلے ‘ لیکن کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے آپ کو روکا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قربانی کا جانور حدیبیہ میں ہی ذبح کر دیا اور وہیں سر بھی منڈوایا اور ان سے معاہدہ کیا کہ آپ آئندہ سال عمرہ کر سکتے ہیں لیکن (نیام میں تلواروں کے سوا اور) کوئی ہتھیار ساتھ نہیں لا سکتے اور جتنے دنوں مکہ والے چاہیں گے ‘ اس سے زیادہ آپ وہاں ٹھہر نہیں سکیں گے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور معاہدہ کے مطابق مکہ میں داخل ہوئے۔ تین دن وہاں مقیم رہے۔ پھر قریش نے آپ سے جانے کے لیے کہا اور آپ مکہ سے چلے آئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے ارادے، حدیبیہ میں رکنے اور پھر اگلے سال عمرہ کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے نکلے، مگر کفار قریش نے بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس کے بعد آپ نے حدیبیہ ہی میں قربانی کا جانور ذبح کیا اور سر منڈوایا۔ پھر معاہدہ ہوا کہ اگلے سال عمرہ کیا جائے گا، ہتھیار ساتھ نہیں ہوں گے سوائے نیام میں تلواروں کے، اور مکہ میں اتنا ہی قیام ہوگا جتنا مکہ والے چاہیں گے۔ اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدے کے مطابق مکہ داخل ہوئے، تین دن رہے، پھر قریش کے کہنے پر واپس تشریف لے آئے۔ اس حدیث کا اصل سبق وعدہ، صبر اور معاہدے کی پابندی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- معاہدے کی شرطوں کو پورا کرنا دیانت کا حصہ ہے۔
- رکاوٹ آنے پر بھی صبر اور نظم کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے۔
- دینی کام میں بھی طے شدہ اصولوں کی پابندی کی گئی۔
