صحیح بخاری حدیث ۴۲۶۳ - شہادت کی خبر اور غم کا ادب
غم اور صبر کی حدیث: جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتوں کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۲۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۶۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " لَمَّا جَاءَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ ، تَعْنِي : مِنْ شَقِّ الْبَابِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، قَالَ : فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُطِعْنَهُ ، قَالَ : فَأَمَرَ أَيْضًا فَذَهَبَ ، ثُمَّ أَتَى فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ ، فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ تَفْعَلُ ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ " .
عائشہ روایت:
زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تھی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے چہرے سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں دروازے کی دراڑ سے جھانک رہی تھی۔ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتیں چلاّ کر رو رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں روک دو۔بیان کیا کہ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں روکا اور یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔ پھر اس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع کرنے کے لیے فرمایا۔ وہ صاحب پھر جا کر واپس آئے اور کہا: قسم اللہ کی! وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دو۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ میں نے کہا: اللہ تیری ناک غبار آلود کرے نہ تو تو عورتوں کو روک سکا نہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا ہی چھوڑا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور آپ کے چہرے پر غم ظاہر تھا۔ اسی دوران ایک شخص نے آ کر کہا کہ جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتیں چلا کر رو رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ انہیں روکے۔ وہ گیا، واپس آیا اور بتایا کہ انہوں نے بات نہیں مانی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ منع کرنے کو فرمایا۔ جب وہ پھر ناکام ہو کر آیا تو روایت میں سخت الفاظ نقل ہوئے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ غم فطری ہے، مگر چیخ و پکار سے روکا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہداء کا غم تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم ہونا فطری ہے، مگر چیخ کر رونے سے روکا گیا۔
- شہداء کی خبر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم ظاہر ہوا۔
- کسی غلط عمل کو روکنے میں سنجیدگی اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
