صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۲ - آسانی اور قرآن
آسانی، خوش خبری اور قرآن پڑھنے کا معمول
صحیح بخاری : ۴۳۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۴۲
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ ، قَالَ : وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلَافٍ ، قَالَ : وَالْيَمَنُ مِخْلَافَانِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا " ، فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى ، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، أَيُّمَ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، قَالَ : لَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ ، قَالَ : إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ ، فَانْزِلْ ، قَالَ : مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ : أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا ، قَالَ : فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ؟ قَالَ : أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي .
ابوبردہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ دونوں صحابیوں کو اس کے ایک ایک صوبے میں بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ یمن کے دو صوبے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، دشواریاں نہ پیدا کرنا، انہیں خوش کرنے کی کوشش کرنا، دین سے نفرت نہ دلانا۔ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو گئے۔ دونوں میں سے جب کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے دوسرے ساتھی کے پاس پہنچ جاتا تو ان سے تازی (ملاقات) کے لیے آتا اور سلام کرتا۔ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ اپنے علاقہ میں اپنے صاحب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے اور اپنے خچر پر ان سے ملاقات کے لیے چلے۔ جب ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کچھ لوگ جمع ہیں اور ایک شخص ان کے سامنے ہے جس کی مشکیں کسی ہوئی ہیں۔معاذ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس! یہ کیا واقعہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے میں اپنی سواری سے نہیں اتروں گا۔ موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قتل کرنے ہی کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ آپ اتر جائیں لیکن انہوں نے اب بھی یہی کہا کہ جب تک اسے قتل نہ کیا جائے گا میں نہ اتروں گا۔ آخر موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔تب وہ اپنی سواری سے اترے اور پوچھا، عبداللہ! آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں پھر انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ معاذ! آپ قرآن مجید کس طرح پڑھتے ہیں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو رات کے شروع میں سوتا ہوں پھر اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر کے میں اٹھ بیٹھتا ہوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مقدر کر رکھا ہے اس میں قرآن مجید پڑھتا ہوں۔ اس طرح بیداری میں جس ثواب کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھتا ہوں سونے کی حالت کے ثواب کا بھی اس سے اسی طرح امیدوار رہتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع آسانی پیدا کرنا، لوگوں کو دین سے قریب رکھنا اور قرآن پڑھنے کا معمول ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ابوموسیٰ اور معاذ رضی اللہ عنہما کو یمن کے الگ الگ علاقوں میں بھیجا۔ روانگی سے پہلے آپ صلى الله عليه وسلم نے ہدایت فرمائی کہ آسانی کرنا، دشواری نہ ڈالنا، خوش کرنا، نفرت نہ دلانا۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ دونوں صحابہ آپس میں ملتے، سلام کرتے اور اپنے کاموں کے دوران رابطہ رکھتے۔ ایک موقع پر معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے قرآن پڑھنے کا طریقہ پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتے رہتے ہیں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنا معمول بتایا کہ وہ رات کا ایک حصہ سوتے، پھر اٹھ کر قرآن پڑھتے، اور نیند پر بھی ثواب کی امید رکھتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی ذمہ داری میں آسانی اور خوش خبری کا انداز اپنانا چاہیے۔
- ساتھی ذمہ داروں کے درمیان ملاقات اور سلام کا ذکر روایت میں موجود ہے۔
- قرآن پڑھنے کے مختلف معمولات صحابہ کے عمل میں ملتے ہیں۔
