صحیح بخاری حدیث ۴۳۷۳ - مسیلمہ کذاب کا دعویٰ اور نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب
مسیلمہ کذاب کی حدیث: جھوٹے دعوے کے سامنے نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب
صحیح بخاری : ۴۳۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ ، يَقُولُ : إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ ، وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا ، وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي " ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسیلمہ کذاب آیا، اس دعویٰ کے ساتھ کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بعد (اپنا نائب و خلیفہ) بنا دیں تو میں ان کی اتباع کر لوں۔ اس کے ساتھ اس کی قوم (بنو حنیفہ) کا بہت بڑا لشکر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔جہاں مسیلمہ اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھا، آپ وہیں جا کر ٹھہر گئے اور آپ نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی مانگے گا تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تو نے اگر میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اب تیری باتوں کا جواب میری طرف سے ثابت بن قیس دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹے دعویٰ نبوت کا رد ہے۔ مسیلمہ کذاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بعد اختیار دے دیں تو میں ان کی پیروی کر لوں گا۔ اس کے ساتھ اس کی قوم کا بڑا گروہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تبلیغ کے لیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی بھی مانگے گا تو میں تجھے نہیں دوں گا، اور تو اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس حدیث میں صاف ہے کہ دین، نبوت اور حق کسی دنیاوی شرط پر نہیں دیے جاتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبوت اور دینی حق کسی شخص کے مطالبے یا شرط سے نہیں بدلتے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹے دعوے کے سامنے صاف اور مضبوط جواب دیا۔
- ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو جواب دینے کے لیے ساتھ رکھا گیا۔
- دنیاوی اختیار کے بدلے ایمان قبول کرنا درست نیت نہیں۔
