صحیح بخاری حدیث ۴۴۰۳ - جان و مال کی حرمت
جان و مال کی حرمت کی حدیث: مسلمان کی گردن نہ مارو
صحیح بخاری : ۴۴۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۰۳
أَلَا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثًا وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ ، انْظُرُوا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
خوب سن لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے آپس کے خون اور اموال اسی طرح حرام کئے ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں ہے۔ ہاں بولو! کیا میں نے پہنچا دیا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ آپ نے پہنچا دیا۔ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہیو، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دہرایا۔ افسوس! (آپ نے «ويلكم» فرمایا یا «ويحكم»، راوی کو شک ہے) دیکھو، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے (مسلمان) کی گردن مارنے لگ جاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جان و مال کی حرمت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے آپس کے خون اور اموال اسی طرح حرام کیے ہیں جیسے اس دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا میں نے پہنچا دیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ پھر آپ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ یہ حدیث بہت صاف الفاظ میں بتاتی ہے کہ مسلمان کی جان اور مال معمولی چیز نہیں۔ اس کی حرمت ایسے بیان ہوئی جیسے مقدس دن، مقدس شہر اور مقدس مہینے کی حرمت۔ اس لیے ظلم، قتل، لوٹ مار اور باہمی خونریزی سے بچنا دینی ذمہ داری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کی جان اور مال کی حرمت بہت بڑی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام پہنچا کر اللہ کو گواہ بنایا۔
- آپس میں قتل و خونریزی سے سختی کے ساتھ روکا گیا۔
