صحیح بخاری حدیث ۴۴۳ - قرض ادا کرنے میں اچھا برتاؤ

قرض ادا کرنے میں اچھا برتاؤ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أُرَاهُ قَالَ : ضُحًى ، فَقَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي " .

جابر بن عبداللہ روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مسعر نے کہا میرا خیال ہے کہ محارب نے چاشت کا وقت بتایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (پہلے) دو رکعت نماز پڑھ اور میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اور زیادہ ہی دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں صاف نظر آتی ہیں: مسجد میں نماز کا ادب اور قرض ادا کرنے میں اچھا برتاؤ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس مسجد میں آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پہلے دو رکعت نماز پڑھو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم پر جو قرض تھا، وہ ادا فرمایا اور اصل رقم سے زیادہ بھی دیا۔ یہ زیادتی مطالبہ یا شرط کے طور پر نہیں تھی، بلکہ ادا کرتے وقت اچھا معاملہ تھا۔ اس حدیث کی سادہ تعلیم یہ ہے کہ مسلمان جب قرض لے تو اسے واپس کرنے میں سنجیدگی دکھائے۔ اگر آسانی ہو تو اچھے انداز سے ادا کرے۔ ساتھ ہی مسجد میں آ کر نماز سے تعلق قائم رکھنا بھی اس واقعہ میں سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرض واپس کرنا ذمہ داری ہے۔
  • ادائیگی میں اچھا برتاؤ پسندیدہ عمل ہے۔
  • مسجد میں آ کر نماز کو پہلے رکھا گیا۔
  • زیادتی شرط کے طور پر نہیں، اچھے معاملے کے طور پر تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں