صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۳ - ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غم اور یقین
ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بوسہ: وفات نبوی صلى الله عليه وسلم پر محبت اور یقین
صحیح بخاری : ۴۴۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۵۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغَشًّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى ، ثُمَّ قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا .
عائشہ روایت:
ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی قیام گاہ، مسخ سے گھوڑے پر آئے اور آ کر اترے، پھر مسجد کے اندر گئے۔ کسی سے آپ نے کوئی بات نہیں کی۔ اس کے بعد آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے، نعش مبارک ایک یمنی چادر سے ڈھکی ہوئی تھی۔آپ نے چہرہ کھولا اور جھک کر چہرہ مبارک کو بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت طاری نہیں کرے گا۔ جو ایک موت آپ کے مقدر میں تھی، وہ آپ پر طاری ہو چکی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طرز عمل ہے۔ روایت میں ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر سے آئے، مسجد میں داخل ہوئے، لوگوں سے بات نہیں کی، بلکہ سیدھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں گئے۔ وہاں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا جسم مبارک چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ انہوں نے چہرہ مبارک کھولا، بوسہ دیا اور روئے۔ پھر انہوں نے وہ بات کہی جو غم کے وقت ایمان کو مضبوط کرتی ہے: اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جو موت لکھی گئی تھی وہ ہو چکی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت کے ساتھ ساتھ اللہ کے فیصلے پر یقین بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شدید غم میں بھی بات کو واضح رکھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت کا اظہار ادب کے ساتھ کیا گیا۔
- موت اللہ کے لکھے ہوئے وقت پر آتی ہے۔
- غم میں رونا فطری ہے، مگر حقیقت سے انکار درست نہیں۔
