صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۵ - وفات کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کو بوسہ
وفات کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کو بوسہ: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی محبت
صحیح بخاری : ۴۴۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۵۵
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ،عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ " .
´مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بوسہ دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۵ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث کا اصل موضوع محبت اور ادب ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو بوسہ دیا۔ الفاظ کم ہیں، مگر معنی بہت گہرے ہیں۔ اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت، قربت اور ادب ظاہر ہوتا ہے۔ یہ روایت اس بات کو بھی دکھاتی ہے کہ صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم سے صرف زندگی میں ہی نہیں، بلکہ وفات کے بعد بھی بہت محبت رکھتے تھے۔ اس حدیث میں کوئی لمبی گفتگو نہیں، اس لیے ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو روایت میں آئی ہے: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کو بوسہ دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت اس عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
- مختصر روایت سے بھی اہم دینی ادب سمجھ آ سکتا ہے۔
- وفات کے بعد بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ادب کا معاملہ کیا گیا۔
- حدیث کے الفاظ جتنی بات بتائیں، اتنی ہی بات اعتماد سے کہنی چاہیے۔
