صحیح بخاری حدیث ۴۴۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے منبر بنوانا
منبر نبوی بنوانے کا سادہ واقعہ
صحیح بخاری : ۴۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ ، يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ " .
سہل روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس ایک آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہے کہ میرے لیے (منبر) لکڑیوں کے تختوں سے بنا دے جن پر میں بیٹھا کروں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں منبر نبوی کے بننے کا مختصر ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک عورت کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے لکڑی کے تختے بنوا دے، جن پر آپ صلى الله عليه وسلم بیٹھا کریں۔ حدیث کا موضوع منبر، مسجد میں بیٹھنے کی جگہ، اور دینی ضرورت کے لیے ہنر مند شخص سے کام لینا ہے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات بھی اسی حد میں رکھنی چاہیے۔ اتنا ضرور سمجھ آتا ہے کہ مسجد کے کام میں عورت کی ملکیت، غلام کا ہنر، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دینی ضرورت سب ایک سادہ طریقے سے جمع ہوئے۔ منبر کا مقصد آرام، تعلیم اور لوگوں سے خطاب میں سہولت تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی ضرورت کے لیے جائز وسائل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
- ہنر مند شخص سے کام لینا درست ہے۔
- مسجد کے کام میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔
- منبر کا مقصد سہولت اور بیٹھنے کی جگہ تھا۔
