صحیح بخاری حدیث ۴۴۹۲ - بیت المقدس سے کعبہ تک قبلہ
بیت المقدس سے کعبہ تک: تحویل قبلہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۴۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، ثُمَّ صَرَفَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ " .
براء بن عازب روایت:
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۹۲ کا خلاصہ
یہ حدیث تحویل قبلہ کے وقت کی مدت کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا۔ روایت میں نہ زیادہ تفصیل ہے نہ کوئی الگ واقعہ، بلکہ دو باتیں صاف ہیں: پہلے قبلہ بیت المقدس تھا، پھر حکم کے بعد قبلہ کعبہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حدیث بیت المقدس سے کعبہ، سولہ یا سترہ مہینے، قبلہ تبدیلی، اور نماز کا قبلہ جیسے سرچ الفاظ سے جڑی ہے۔ اس میں عبادت کا رخ اللہ کے حکم سے بدلنے کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نے ایک مدت تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔
- بعد میں اللہ کے حکم سے کعبہ کی طرف رخ کیا گیا۔
- روایت میں مدت سولہ یا سترہ مہینے بیان ہوئی ہے۔
- نماز کا قبلہ اللہ کے حکم کے تابع ہے۔
