صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۰ - وقوف عرفات کا حکم
وقوف عرفات: حج کا درست طریقہ
صحیح بخاری : ۴۵۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۲۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ ، ثُمَّ يَقِفَ بِهَا ، ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " .
عائشہ روایت:
قریش اور ان کے طریقے کی پیروی کرنے والے عرب (حج کے لیے) مزدلفہ میں ہی وقوف کیا کرتے تھے، اس کا نام انہوں الحمس رکھا تھا اور باقی عرب عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ عرفات میں آئیں اور وہیں وقوف کریں اور پھر وہاں سے مزدلفہ آئیں۔ آیت «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» سے یہی مراد ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش اور ان کے طریقے پر چلنے والے عرب حج میں مزدلفہ ہی میں وقوف کرتے تھے، انہیں حمس کہا جاتا تھا۔ باقی عرب عرفات میں وقوف کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ عرفات میں آئیں، وہاں وقوف کریں، پھر وہاں سے مزدلفہ کی طرف آئیں۔ آیت ‘ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس’ سے یہی مراد بیان ہوئی۔ اس حدیث کا موضوع وقوف عرفات، مزدلفہ، اور حج کا صحیح طریقہ ہے۔ اس میں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نسبی یا قبائلی امتیاز کی بنیاد پر الگ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی راستہ اختیار کرنے کا حکم ہوا جہاں سے عام لوگ افاضہ کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریش پہلے مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے جبکہ باقی عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے۔
- اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں وقوف کا حکم دیا گیا۔
- عرفات سے پھر مزدلفہ کی طرف آنا بیان ہوا۔
- حج کے عمل میں صحیح طریقہ وحی کے حکم سے معلوم ہوتا ہے۔
