صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۷ - ابن عباس کی والدہ کا عذر
مستضعفین کا عذر: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ
صحیح بخاری : ۴۵۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِلا الْمُسْتَضْعَفِينَ سورة النساء آية 98 ، قَالَ : " كَانَتْ أُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ " .
ابن عباس روایت:
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے` اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «إلا المستضعفين» کے متعلق فرمایا کہ میری ماں بھی ان ہی لوگوں میں تھیں جنہیں اللہ نے معذور رکھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی مستضعفین کے بارے میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے “الا المستضعفين” کے متعلق فرمایا کہ میری والدہ بھی ان لوگوں میں تھیں جنہیں اللہ نے معذور رکھا تھا۔ حدیث کا انداز بہت مختصر ہے، مگر بات صاف ہے کہ قرآن میں جن کمزور لوگوں کا استثنا آیا، ان میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ کو بھی شامل سمجھتے تھے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر دینی حکم کو انسان کی طاقت اور حالات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔ جو واقعی کمزور، مجبور یا عذر والا ہو، اس کا معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔ اس روایت میں کسی لمبے حکم کی تفصیل نہیں، اس لیے بات اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن میں مستضعفین کے لیے عذر کا ذکر آیا ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی والدہ کو معذور لوگوں میں شمار کیا۔
- حقیقی کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
- مختصر روایت بھی ایک اہم اصول بتا سکتی ہے۔
