صحیح بخاری حدیث ۴۶۱۳ - لغو قسم کا مطلب
لغو قسم کیا ہے؟ لا واللہ اور بلی واللہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۱۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ سورة المائدة آية 89 فِي قَوْلِ الرَّجُلِ : لَا وَاللَّهِ ، وَبَلَى وَاللَّهِ " .
عائشہ روایت:
آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم» ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا۔“ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ نہیں، اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم!۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۱۳ کا خلاصہ
یہ حدیث لغو قسم کی وضاحت کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم» ایسے الفاظ کے بارے میں نازل ہوئی جیسے کوئی شخص عام بات چیت میں کہہ دے: نہیں، اللہ کی قسم، یا ہاں، اللہ کی قسم۔ اس حدیث کا موضوع لغو قسم، روزمرہ بول چال کی قسم، اور قسم کے الفاظ کا استعمال ہے۔ روایت میں کوئی لمبی فقہی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آیت کن الفاظ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم ایک جیسی نہیں ہوتی، اور صحابہ آیات کے سبب نزول کو بھی یاد رکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لغو قسم کی مثال حدیث میں لا واللہ اور بلی واللہ سے دی گئی ہے۔
- ہر بولی ہوئی قسم کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت کے متعلق واضح تشریح کی۔
- زبان کے عام الفاظ کے بارے میں بھی دین رہنمائی دیتا ہے۔
