صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۲ - مذاقاً سوال کرنے کی ممانعت
فضول اور مذاق والے سوالات سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۲۲
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً ، فَيَقُولُ الرَّجُل : مَنْ أَبِي ؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ : تَضِلُّ نَاقَتُهُ ، أَيْنَ نَاقَتِي ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا " .
ابن عباس روایت:
بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہو گی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔“ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاق کے طور پر سوال کرتے تھے۔ کوئی پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ پوچھتا کہ میری اونٹنی کہاں ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق ایسے ہی لوگوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی کہ اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ اس روایت کا اصل موضوع فضول سوال، مذاق میں دینی سوال، اور سوال کرنے کا ادب ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال سنجیدگی اور فائدے کے لیے ہونا چاہیے، کھیل یا مذاق کے لیے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی سوال مذاق کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔
- ایسے سوالات سے بچنا چاہیے جن سے نقصان یا تکلیف ہو سکتی ہو۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کے سبب کا ذکر کیا۔
- سوال کا مقصد فائدہ اور رہنمائی ہونا چاہیے۔
