صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۸ - مقام محمود اور شفاعت

مقام محمود: قیامت کے دن شفاعت کا خاص مقام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۱۸

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّاسَ يَصِيرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا كُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَّهَا ، يَقُولُونَ : يَا فُلَانُ ، اشْفَعْ يَا فُلَانُ ، اشْفَعْ حَتَّى تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَلِكَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ " .

ابن عمر روایت:

قیامت کے دن امتیں گروہ در گروہ چلیں گی۔ ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور (انبیاء سے) کہے گی کہ اے فلاں! ہماری شفاعت کرو (مگر وہ سب ہی انکار کر دیں گے) آخر شفاعت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن امتیں گروہ در گروہ چلیں گی، ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہوگی، اور لوگ شفاعت کی درخواست کریں گے۔ آخر شفاعت نبی کریم صلى الله عليه وسلم تک پہنچے گی۔ یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آپ صلى الله عليه وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع مقام محمود اور شفاعت ہے۔ متن میں قیامت کی ترتیب مختصر انداز میں بیان ہوئی ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ یہ روایت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے بلند مقام کو بیان کرتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھاتی ہے کہ شفاعت اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے تحت ہوگی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہوگی۔
  • شفاعت آخرکار نبی کریم صلى الله عليه وسلم تک پہنچے گی۔
  • مقام محمود نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے خاص مقام کے طور پر بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں