صحیح بخاری حدیث ۴۷۳ - تہجد اور وتر کا مختصر حکم
تہجد دو دو رکعت اور آخر میں ایک وتر
صحیح بخاری : ۴۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ " ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ .
ابن عمر روایت:
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ اس نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دو دو رکعت پڑھی جائے۔ پھر جب صبح صادق کے طلوع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو، تاکہ جو نماز پڑھی ہے وہ طاق ہو جائے۔ اسی روایت کے آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک اور طریق سے یہ بات نقل کی کہ ایک شخص نے نبی صلى الله عليه وسلم کو آواز دی جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تہجد اور وتر ہے۔ اس میں رات کی نماز کا آسان طریقہ صاف لفظوں میں آ گیا: پہلے دو دو رکعت، پھر آخر میں ایک وتر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز کا طریقہ دو دو رکعت ہے۔
- صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لی جائے۔
- وتر پچھلی نماز کو طاق بنا دیتا ہے۔
- دینی سوال پوچھ کر حکم معلوم کرنا صحابہ کا معمول تھا۔
