صحیح بخاری حدیث ۴۷۹ - تشبیک اصابع کا بیان
تشبیک اصابع یعنی انگلیوں کو باہم ملانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۹
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، حَدَّثَنَا وَاقِدٌ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَوْ ابْنِ عَمْرٍو ، " شَبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ " .
´ہم سے حامد بن عمر نے بشر بن مفضل کے واسطہ سے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے، کہا ہم سے واقد بن محمد نے اپنے باپ محمد بن زید کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا متن بہت مختصر ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ روایت میں عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کا ذکر آیا ہے۔ چونکہ حدیث میں صرف عمل نقل ہوا ہے، اس لیے اس سے باہر کوئی تفصیلی حکم بیان کرنا درست نہیں۔ تشبیک اصابع، انگلیاں ملانا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا اشارہ جیسے الفاظ اس روایت کے اصل الفاظ سے قریب ہیں۔ اس طرح کی مختصر روایات میں احتیاط ضروری ہے کہ بات کو متن تک رکھا جائے۔ یہاں مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے انگلیوں کو باہم داخل کرنے کا عمل روایت ہوا ہے، اور اس کی تفصیل اگلی روایت میں ایک خاص جملے کے ساتھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم سے انگلیوں کو باہم داخل کرنے کا عمل نقل ہوا۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اس پر زائد بات نہیں بنانی چاہیے۔
- راوی نے صحابی کے نام میں ابن عمر یا ابن عمرو کا احتمال بیان کیا۔
- حدیث کے الفاظ کو سمجھتے وقت متن کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
