صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۴ - قحط، دعا اور پھر واپسی

دخان کا واقعہ: ابوسفیان کی درخواست اور قحط کا ہٹنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۲۴

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمُ السَّنَةُ حَتَّى حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ ، وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ : فَقَالَ : أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ ، فَدَعَا ، ثُمَّ قَالَ : " تَعُودُونَ بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ " ، ثُمَّ قَرَأَ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى عَائِدُونَ سورة الدخان آية 10 - 15 أَنَكْشِفُ عَذَابَ الْآخِرَةِ فَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ ، وَالْبَطْشَةُ ، وَاللِّزَامُ ، وَقَالَ أَحَدُهُمْ : الْقَمَرُ ، وَقَالَ الْآخَرُ : وَالرُّومُ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين‏» کہ ”کہہ دو کہ میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرنے والوں میں سے ہوں۔“ پھر جب آپ نے دیکھا کہ قریش عناد سے باز نہیں آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ ”اے اللہ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط سے کر جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔“ (پھر) قحط پڑا اور پر چیز ختم ہو گئی۔لوگ ہڈیاں اور چمڑے کھانے پر مجبور ہو گئے (سلیمان اور منصور) راویان حدیث میں سے ایک نے بیان کیا کہ وہ چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہو گئے اور زمین سے دھواں سا نکلنے لگا۔ آخر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم ہلاک ہو چکی، اللہ سے دعا کیجئے کہ ان سے قحط کو دور کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور قحط ختم ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر کفر کی طرف لوٹ گئے۔منصور کی روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏» ”تو آپ اس روز کا انتظار کریں جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ «عائدون‏» تک۔ کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے دور ہو سکے گا؟ ”دھواں“ اور ”سخت پکڑ“ اور ”ہلاکت“ گزر چکے۔ بعض نے ”چاند“ اور بعض نے ”غلبہ روم“ کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ بھی گزر چکا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع قریش کا قحط، دخان، اور مصیبت کے بعد ان کا پھر لوٹ جانا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور آپ نے فرمایا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ بناوٹی باتیں کرنے والوں میں سے ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ قریش سرکشی سے باز نہیں آتے تو آپ نے یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسی قحط سالی کی دعا کی۔ قحط اتنا سخت ہوا کہ لوگ ہڈیاں، چمڑے اور مردار کھانے لگے۔ زمین سے دھواں سا نکلتا محسوس ہوتا تھا۔ پھر ابوسفیان آئے اور کہا کہ آپ کی قوم ہلاک ہو گئی، اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے دعا فرمائی، قحط ختم ہوا، مگر وہ پھر لوٹ گئے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت پر کوئی دنیاوی اجر نہیں مانگا۔
  • قحط کے وقت قریش نے دعا کی درخواست کی، اور دعا سے مصیبت ہٹ گئی۔
  • مصیبت کے بعد دوبارہ غلط راستے پر لوٹنا روایت میں مذمت کے طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں