صحیح بخاری حدیث ۵۰۰۹ - رات کو سورۃ بقرہ کی آخری آیات
رات کو سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے کی فضیلت
صحیح بخاری : ۵۰۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۰۹
وحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ " .
ابومسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس نے رات میں سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لیں، وہ اسے کافی ہو جائیں گی۔ اردو میں اس حدیث کو عموماً سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات کی فضیلت کے نام سے تلاش کیا جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اسی حد تک بات کرنا درست ہے کہ رات میں ان دو آیات کا پڑھنا ایک خاص کفایت کا سبب بتایا گیا ہے۔ ترجمے میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ آیات ہر آفت سے بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔ اس سے مسلمان کو رات کے معمول میں قرآن کو شامل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ یہاں اصل نکتہ یہی ہے کہ قرآن کی چند آیات بھی ایمان والے کے لیے بہت قیمتی عمل بن سکتی ہیں، خاص طور پر جب انہیں رات میں پڑھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات میں سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے کی خاص فضیلت ہے۔
- حدیث میں ان آیات کو پڑھنے والے کے لیے کفایت کا ذکر آیا ہے۔
- روزانہ کے معمول میں قرآن کی مختصر تلاوت بھی اہم عمل بن سکتی ہے۔
- فضیلت وہی بیان کرنی چاہیے جو حدیث کے الفاظ سے ثابت ہو۔
