صحیح بخاری حدیث ۵۰۲۷ - سب سے بہتر قرآن سیکھنے اور سکھانے والا
قرآن سیکھنے اور سکھانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۲۷
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " . قَالَ : وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ ، قَالَ : وَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا .
عثمان بن عفان روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ (قرآن مجید پڑھانے کے لیے) بٹھا رکھا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث قرآن سیکھنے کی حدیث کے طور پر بہت مشہور ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ اس میں بات صاف ہے: قرآن صرف اپنے پاس رکھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے سیکھنا اور پھر آگے سکھانا بڑی خیر کا کام ہے۔ روایت میں ابوعبدالرحمٰن سلمی کا عمل بھی آیا ہے کہ وہ ایک لمبے عرصے تک لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے رہے، اور یہی حدیث ان کے بیٹھنے کا سبب بنی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پڑھانا ایک سنجیدہ خدمت ہے، جس کے لیے مستقل مزاجی بھی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سیکھنا اور سکھانا بہترین کاموں میں سے ہے۔
- علم قرآن کو دوسروں تک پہنچانا اس حدیث کے مطابق پسندیدہ عمل ہے۔
- ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اس حدیث کو اپنی عملی محنت کا سبب بنایا۔
