صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۶ - مفصل سورتوں کا حفظ
محکم یعنی مفصل سورتوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۳۶
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : " وَمَا الْمُحْكَمُ ؟ قَالَ : الْمُفَصَّلُ " .
یعقوب بن ابراہیم روایت:
´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` میں نے محکم سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سب یاد کر لی تھیں، میں نے پوچھا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں؟ کہا کہ مفصل۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۶ کا خلاصہ
یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر مشتمل ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں محکم سورتیں جمع کر لی تھیں، یعنی یاد کر لی تھیں۔ جب پوچھا گیا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں تو جواب ملا کہ مفصل۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت میں محکم اور مفصل کا تعلق بیان کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام کے گھروں اور ماحول میں قرآن کی تعلیم بہت اہم تھی۔ مگر متن میں صرف اتنا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عہد نبوی میں مفصل سورتیں یاد کی تھیں، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں محکم سے مراد مفصل سورتیں بتائی گئی ہیں۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عہد نبوی میں انہیں یاد کیا۔
- قرآن یاد کرنے کا عمل صحابہ کے ماحول میں موجود تھا۔
