صحیح بخاری حدیث ۵۰۵۸ - عبادت کے باوجود قرآن دل میں نہ اترنا
قرآن حلق سے نیچے نہ اترنا: ظاہری عبادت پر ایک سخت تنبیہ
صحیح بخاری : ۵۰۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۵۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ " .
ابو سعید خدری روایت:
تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ (کہ تیر چلانے والا) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی (شکار کے خون وغیرہ کا) کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ بس سوفار میں کچھ شبہ گزرتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمایا جس کی نماز، روزہ اور عمل دیکھ کر دوسرے لوگ اپنے عمل کو کم سمجھیں گے۔ وہ قرآن بھی پڑھیں گے، مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر فرمایا کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ حدیث میں تیر کی مثال تفصیل سے دی گئی ہے کہ اس پر نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ اس روایت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ دین صرف ظاہری کثرت کا نام نہیں۔ قرآن پڑھنا، نماز اور روزہ سب بہت بڑے اعمال ہیں، مگر دل، ایمان اور صحیح دین داری بھی ضروری ہے۔ اس حدیث کو کسی فرد پر اپنی طرف سے چسپاں کرنا درست طریقہ نہیں؛ ایسے مسائل اہل علم کے فہم سے سمجھے جاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظاہری عبادت زیادہ ہونا اکیلا کافی معیار نہیں۔
- قرآن پڑھنا تب فائدہ دیتا ہے جب دل اور عمل سے تعلق ہو۔
- حدیث میں دین سے نکلنے کی سخت مثال دی گئی ہے۔
- دوسروں کے عمل کو دیکھ کر اپنے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔
