صحیح بخاری حدیث ۵۰۶۳ - عبادت میں اعتدال اور نکاح کی سنت
عبادت میں اعتدال: میری سنت سے منہ موڑنے والا مجھ سے نہیں
صحیح بخاری : ۵۰۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۶۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا ، فَقَالُوا : وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ : أَمَّا أَنَا ، فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا ، وَقَالَ آخَرُ : أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ ، وَقَالَ آخَرُ : أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " .
انس بن مالک روایت:
تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں تین حضرات نے نبی صلى الله عليه وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب انہیں آپ صلى الله عليه وسلم کا عمل بتایا گیا تو انہوں نے اسے اپنے خیال میں کم سمجھا۔ ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور نکاح نہیں کروں گا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں سمجھایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہیں، مگر روزہ رکھتے بھی ہیں اور افطار بھی کرتے ہیں، نماز پڑھتے بھی ہیں اور سوتے بھی ہیں، اور نکاح بھی کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔ یہ حدیث عبادت، روزہ، نماز اور نکاح سب میں اعتدال کا صاف سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ عبادت کے نام پر نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے سے ہٹنا درست نہیں۔
- روزہ، نماز، آرام اور نکاح سب میں اعتدال مطلوب ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل دین کا بہترین نمونہ ہے۔
- سنت سے بے رغبتی سخت ناپسندیدہ بات ہے۔
